میرے اجداد کی یہ زمیں
Post Copied From (Facebook)
بلوچ لبریشن موومنٹ
"میرے اجداد کی یہ زمیں"
چند ذرہ فلک
چند قطرہ زمین
زندگی تم نہیں
زندگی ہم نہیں
چند کوسوں تلک
یہ زمان و مکان
میرے اجداد کے پھول و دھول
میرے دامن کے
کانٹے چھبے ہی نہیں
یہ زمیں ، جس پہ
ہم رینگتے رینگتے
میل و فرلانگ کے
آخری منزلوں کو
روانہ ہوئے
یہ زمین جس نے
آغوش میں
بھر لیا ہے مجھے
تیری نرم و گدازی
کی باہوں سے کم تر نہیں
یہ زمین
جس کی صورت نے
بخشی مجھے
میرے اجداد کو
میرے اجداد کے
سارے اجداد کو
جیسے دیوی کوئی
سردوادی میں
رہتی ازل سے ابد تک
میرے اجداد کی یہ زمیں
دیویوں کی زمینوں سے
کمتر نہیں
میں بھی تجھ میں رہوں
تم بھی مجھ میں رہو
میں بھی اجداد ہوں
تم بھی اجداد ہو
ہم شکستہ بدن
حوصلوں کے تونگر
بھرے شہر میں
اپنی مٹی سے گذرے ہوئے
دھول ہیں۔
جتنی سمتوں سے اُٹھتی ہے
اپنی جبیں
ایک جنبش ہمیں
کھینچ لائے
تو مٹی کے دھولوں میں بھی
پھول ہی پھول ہیں
گیت گائے زمین
چنگ ونے
میرے اجداد کے خون ہیں
میں بھی اجداد ہوں
تم بھی اجداد ہو
چند ذرہّ فلک
چند قطرہ زمین
مجھ میں موجود ہے
تجھ میں موجود ہے
آئو!
مل کر بچھالیں
زمین آسمان!
Subscribe to:
Posts (Atom)
